social app,Letest app,Video editing app you are easily find and download on this website

تازہ ترین پوسٹ

Post Top Ad

Your Ad Spot

Tuesday, June 6, 2023


 -اسلام علیکم دوستو میں ہوں سفیان علی اور آپ کو اپنی ویب سایؑٹ پر خوش آمدید کہتا ہو

 -امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے اور خوش ہونگے اور خدا تعالیٰ سے دعا ہے کے وہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے



تعارف

 آج کی اس پوسٹ میں ہم  پرانے لوگوں کے بارے میں پرہیں گے کہ ہمارے جو بزرگ تھے ان کا رہن سہن رسمو -رواج اور کام کرنے کا طریقہ کیسا تھا تو چلو برہتے ہیں اپنے موزع کی جانب

پرانے لوگ پرانی باتیں

وقت اپنی رفتار ک ساتھ گزرتا چلا جا رہا ہےموت اور زندگی کا خیال ہر لمہ جاری ہےتہزیبو تمدن آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں مگر گھروں کو پہلے جیسا ماحول میسر نہیں پہلے بی اماں گھر کی جان ہوتی تھی شام ہوتے ہی بڑی زعیف عورتیں بچوں کو لے کر بیتھ جاتی تھیں اور خود بچے ہی ان ک پاس آ کر جمع ہو جاتے تھے بڑی بی کہانیاں سناتی کبھی گیت سناتی اس طرح وہ بچوں کا دل بہلاتی تھیں گھر کی ہر ایک شے ان کی نظر میں ہوتی بچیوں -کی خاص طور پر تربیت کر کے ان کی نمازیں درست کرواتیں ان کو دعایؑں سکھاتی اور شرم و حیا کا درس دیتی
کسی اور کے سامنے تو ایک الگ بات خد بھی سر سے دپٹہ اترا نا پسند کرتیں کھانے پکانے کی خاص تربیت کرتی ایک پلیٹ میں ادرک لہسن اور سارے مسالے اکھٹے کتواتی اور  خشک مصالوں کو پسوا کر بچیوں اور بہوؤں کو کو پاس بلا کر کہتی کہ یہاں رک کر دیکھو میں سالن کیسے بناتی ہوں اور کیسے بنایا جاتا ہے
اسی طرح کیہں شادی بیاہ کی بات چلی یا کہیں رشتہ داروں میں جہاں کوی لین دین کرنا ہوتا تو کئ دن پہلے ہی تیاری شروع کر دیتے 
روزانہ کی بنیاد پر کپرے سلائ کر کے صندوق کے ایک کونے میں جمع کرتی رہتیں اور وقت آنے پر ڈھیروں سامان اور اشیاء نکال کر لے آتی اور کسی بھی تقریب کا کوئ بار اچانک سے نا پرتا چاہے وہ شادی کی ہو یا کوئ اور
بجٹ اور معشیت کا کوئ شعور نہ ہوتا بس پکی فاضلہ ہوتی کہ کتنے آدمیوں کتنا آٹا یا چاول کافی ہونگے اس کا پیمانہ رکھتیں اور ضرورت ک مطابق اتنا ہی پیمانہ بہر کر دیتیں

دکھ سکھ میں اکٹھے ہونا

کہیں کوئ دکھ سکھ کی خبر پاتی تو فورن وہاں پہنچ جاتی تھیں   یہ گھر کی  بڑی عورتیں گھر  کی ڈاکٹر  بھی ھوتی ھے اگر بچے کا پیٹ اپھر جاہے تو ہینگ کالیپ کراتی اور منہ آجائے تو شیر اور الاٰٰئچی خورد کا پاوڈر نذلہ زکام میں آٹے کے برتن مے پانی ڈال کر گرم کر کے پلا دے کیو کے اس کے بٰہت سے امراض کا خود ہی  علاج میں ماہر ہوتی ہے اور کیسی کو کانوں کان بھی خبر  نہ ہوتی  

مگر یہ سب کہانیاں ہوگحی  بے حیایئ پر ٹوکنے والے اب گھروں میں ٹوکنے والا کوہئ نہیئں پردہ رخصت ہی سا ہوگیا ہے گھر کا ایک بجٹ بننا چاہے پر کوہی پروا نہیں ہر وقت اتنا ہوتا ہے  کے تین وقت بھی نہیں ہوتا  صبح سویرے کلام پاک کی تیلاوت گھر آنگن کی صفاہی اب دن چھرھے ہوتی ہے کہاں یے کے فورٓ فجر کے بعد ہوتی تھی 

بچوں کو کہانیاں کصے سنانا اور دواہیں  یاد کروانا ان کو تاریکی واکعات بتانا  اللًہ اور رسول کی باتے بتانا اس کے اعلاوہ فرصت نہ دلچسپی 

بچوں کا بستا اتنا بھاڑی ہے کے بچے کے وزن سے زیادہ اور وقت وہ تو ہے ہئ نہیں  صبح سکول اور اس کے بعد ہوم ورک پھر ٹوشن  ایسی بے درپے  مصروفاجت  ہیں کے اپنے  بارے میں جاننے اور سیکھنے  کی فرصت ہی نہیں 

قرآن پاک اگر کچھ بچے فیشن ایبل  طریقہ سے سکھا بھی رہے  تو صحتی الفاظٹی  اور روانی سے  محروم ہے بہت کم بچے ایسے ہے جو  اردو  میں صہیح صہح لکھ سکتے ہے 

اب بھی اماں جیسی  خواتین نہ تو پیدا ہے  لیکن زارا سا احساس اور ذمہ داری  پیدا کر کے  حالات کو بدلا جاسکتا ہے 

گھروں کے اندر

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????